مورگج پر انٹریسٹ (Interest on Mortgage) اور سود دینے کا معاملہ

مورگیج کے ذریعے مکان خرید کر ہم جو انٹریسٹ دیتے ہیں کیا یہ وہی ربوٰ ہے جو اسلام میں حرام اور ممنوع ہے؟ اور کیا اس طرح کی ڈیل (Deal) کر کے ہم بھی گناہ گار اور مستحقِ لعنت ہوں گے؟


سوال

مورگیج کے ذریعے مکان خرید کر ہم جو انٹریسٹ دیتے ہیں کیا یہ وہی ربوٰ ہے جو اسلام میں حرام اور ممنوع ہے؟ اور کیا اس طرح کی ڈیل (Deal) کر کے ہم بھی گناہ گار اور مستحقِ لعنت ہوں گے؟

جواب

جی اگرچہ اس کو نام سود ہی کا دیا جاتا ہے مگر اپنی اصل میں یہ سود نہیں ہے۔ دین اسلام نے جس چیز کو سودقرار دیااور جس سے ظلم وجود میں آتا ہے اس کااطلاق صرف ان چیزوں پر ہوتا ہے جو استعمال کے ساتھ ہی اپناوجودکھو دیتی ہیں ۔ مثلاً سود پر اگر نقد روپیہ یااجناس وغیرہ لیے گئے ہیں تو یہ استعمال کے ساتھ ہی اپنا وجود کھودیں گیں ۔ اس کے بعد مقروض کو انھیں دوبارہ نئے سرے سے پیدا کر کے اس پر اضافی رقم بطور سود دینی ہو گی۔ یہی وہ ظلم ہے جسے اسلام روکنا چاہتا ہے ۔

فائنینسنگ کے ذریعے سے مکان یا گاڑ ی وغیرہ کے حصول کا معاملہ قدرے مختلف ہے ۔ اس میں قرض لینے والا قرض کی رقم سے ایک چیز کا نہ صرف مالک بنتا ہے ، بلکہ اس کا مستقل استعمال کرتا ہے ۔قرض کا روپیہ صرف تو ہو گیا مگر اسے ایک ایسی چیز کا مالک بنا گیا جو اس کے استعمال میں رہتی ہے اور وہ مستقبل میں اس کا مالک بھی بن جاتا ہے ۔اس کی شکل یہ ہوتی ہے کہ قرض کی مکمل ادائیگی کے بعد مقروض اس شے کا مالک بن کر اسے اپنے استعمال میں رکھتا ہے ۔ اس طرح غور کیا جائے تو اس پر ظلم نہیں ہوتا، بلکہ وہ وسائل کے بغیر اپنی ضرورت کی چیز کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔ البتہ سوال یہ ہے کہ قرض خواہ کو کس بنیاد پر آمادہ کیا جائے کہ وہ فائنینسنگ کی رقم فراہم کرے۔ استاذ گرامی جاوید احمد غامدی صاحب کے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ کرایہ داری کے اصول پر اگر یہ معاہدہ کر لیا جائے تو سو دکے بجائے کرایہ کی شکل میں سرمایہ فراہم کرنے والے کو (چاہے وہ کوئی قرض خواہ ہو یا کوئی بینک)اپنا منافع مل جائے گا اور معاہدے کے اختتام پر جائیداد کی ملکیت مقروض کو منتقل کر دی جائے گی۔ اس طرح فریقین کا مفاد محفوظ رہے گا۔ ظاہر ہے کہ جو تجویز پیش کی جا رہی ہے اس میں بعض عملی مسائل آ سکتے ہیں۔ لیکن ماہرین معیشت اگر اسلام میں سود کی حرمت کے بنیادی اصول پر واضح ہوجائیں توان عملی پیچیدگیوں کو حل کرنا زیادہ بڑ ا مسئلہ نہیں ہے ۔ گویا مورگیج کے طریقے پر گھر لینے کے بعد انٹریسٹ کے نام پر جو ادائیگی کی جاتی ہے وہ اپنی اصل میں سود نہیں ، بلکہ اس گھر کو استعمال کرنے کا کرایہ ہے جس کے آپ ابھی مکمل طور پر مالک نہیں بنے ہیں۔

تاہم یہاں ایک اور بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ سود کے معاملے میں دو فریق ہوتے ہیں ۔ ایک فریق سود پر قرض لینے والے لوگ ہیں جنھیں اصل رقم کے علاوہ سود بھی ادا کرنا ہوتا ہے ۔دوسرا فریق سود دینے والاشخص ، ادراہ اور اس کے معاونین ہیں ۔استاذِ گرامی جاوید احمد غامدی صاحب کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں سود کی مذمت پر جو کچھ کہا گیا ہے اس میں اصل وعید دوسرے گروہ کے لیے ہے جو سود پر قرض دیتا اور لوگوں سے سود لیتا ہے۔ رہے پہلی قسم کے لوگ توظاہر ہے کہ وہ مجبوری ہی میں سود ادا کرتے ہیں ۔ اپنی خوشی سے کوئی شخص قرض پر اضافی رقم ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔

ہمارے ہاں ایک روایت کے بعض الفاظ کی بنا پر یہ غلط فہمی ہوگئی ہے کہ سود ادا کرنے والا بھی قابل مذمت ہے ۔ وہ روایت اس طرح ہے :

’’لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربٰوا ، ومؤکلہ ، وکاتبہ ، وشاھدیہ ، وقال: ھم سواء (مسلم، رقم1598)‘‘

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سودکھانے اورکھلانے والے اوراس دستاویزکے دونوں گوا ہوں پرلعنت کی اورفرمایا:یہ سب برابرہیں ۔‘‘
اس روایت میں ’مؤ کلہ‘ کے الفاظ (جس کا ترجمہ سود کھلانے والے کیا گیا ہے )کو لوگ سود دینے والوں کے معنوں میں لیتے ہیں ، مگر اس کا اصل مفہوم و مدعا وہی ہے جو استاذ گرامی جاوید احمد صاحب غامدی نے اس طرح بیان کیا ہے :
’’اس (مؤ کلہ)سے مراد وہ لوگ ہیں جوسودکاکاروبارکرنے والوں کے ایجنٹ کی حیثیت سے ان کے ساتھ یا ان کے قائم کردہ اداروں میں خدمات انجام دیتے ہیں ۔‘‘

( میزان ، با ب :قانون معیشت ، ص 510 ، فٹ نوٹ نمبر 33)

رہے سود دینے والے تو ظاہر ہے کہ وہ خود ایک ظلم کا شکار ہیں ، ان پر لعنت کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔

مجیب: Rehan Ahmed Yusufi

اشاعت اول: 2016-01-23

مزید تحریریں جو آپ کو دلچسپ لگیں