کیا خدا نے بنی اسرائیل کو سرزمینِ فلسطین دائمی میراث کے طور پر دے دی ہے؟

بائبل بنی اسرائیل کو فلسطین پر غیر مشروط اور دائمی حق نہیں دیتی۔ زمین کو عہد اور اطاعت کے ساتھ مشروط الٰہی امانت قرار دیتی ہے؛ نافرمانی پر جلاوطنی اور حق چھن جانا مقدر ہے۔ عہدِ جدید میں وراثت کا معیار اخلاقی و روحانی ثمرات ہیں۔


dome of the rock jerusalem

سوال:

صیہونی یہودی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ خدا تعالی نے بائبل میں ان کے لیے سرزمین فلسطین ابدی میراث کے طور پر لکھ دی ہے، اس لیے فلسطینیوں کا اس سرزمین پر کوئی حق نہیں بنتا۔ کیا یہ بات درست ہے؟ اور کیا اس سے دنیا میں ناانصافی اور ظلم نہیں پھیلتا؟

جواب:

عبرانی بائبل (عہد نامہ قدیم) میں یہ صراحت موجود ہے کہ باری تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی ذریت سے ارضِ کنعان کا وعدہ فرمایا تھا۔ کتابِ پیدائش (Genesis)، باب 12، آیت 7 میں ارشاد ہے: "میں یہ زمین تیری نسل کو دوں گا۔” اسی طرح باب 15، آیت 18 میں اس کی مزید وسعت بیان ہوئی: "میں نے یہ زمین تیری نسل کو دی، مصر کے دریا سے لے کر بڑے دریا، یعنی دریائے فرات تک۔” کتابِ پیدائش، باب 17، آیت 8 میں تو اسے "ابدی ملکیت” سے تعبیر کیا گیا ہے۔

تاہم، تورات کے عمیق مطالعے سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ زمین کی اصل ملکیت محض اللہ کے لیے ہے؛ یہ کسی قوم کا غیر مشروط نسلی استحقاق نہیں ہے۔ کتابِ احبار (Leviticus)، باب 25، آیت 23 میں حکمِ الٰہی ہے: "زمین مستقل طور پر فروخت نہیں کی جائے گی کیونکہ زمین میری ہے، اور تم میرے ہاں بطورِ مسافر اور مہمان ٹھہرے ہو۔” چنانچہ بنی اسرائیل کی حیثیت مالکِ مطلق کی نہیں، بلکہ امین اور نگران کی تھی۔

یہ امانت داری اور زمین پر قیام صریحاً اخلاقی شرائط سے مشروط تھا۔ کتابِ استثنا (Deuteronomy)، باب 28 خبردار کرتی ہے کہ اطاعت گزاری کا صلہ زمین پر قیام و امن ہے، جبکہ نافرمانی کا انجام جلاوطنی ہوگا۔ ارشاد ہے: "تم اس سرزمین سے اکھاڑ پھینکے جاؤ گے جس کے تم وارث بننے جا رہے ہو، اور خداوند تمہیں تمام قوموں میں تتر بتر کر دے گا” (باب 28، آیات 63–64). کتابِ احبار، باب 18، آیت 28 میں تو یہاں تک تنبیہ ہے کہ اگر تم نے زمین کو ناپاک کیا تو یہ تمہیں خود سے "اُگل” دے گی۔ انبیائے بنی اسرائیل نے بھی مسلسل اسی نکتے پر زور دیا۔ یرمیاہ علیہ السلام نے پکار کر کہا: "اپنے طور طریقوں اور اعمال کی اصلاح کرو… تو میں تمہیں اس مقام پر بسنے دوں گا” (کتابِ یرمیاہ، باب 7، آیات 3–7). حزقی ایل علیہ السلام نے ان لوگوں کو سخت ملامت کی جو ایک طرف ظلم و خونریزی میں مبتلا تھے اور دوسری طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وراثت کا دعویٰ کرتے تھے (کتابِ حزقی ایل، باب 33، آیات 24–26).

عہد نامہ جدید (Gospel) میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس معاملے کے اخلاقی پہلو کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔ ‘باغ کے کرایہ داروں’ کی تمثیل (متی، باب 21، آیات 33–46) میں آپ ایک ایسے مالک کا ذکر فرماتے ہیں جو باغ ان بدعنوان باغبانوں سے چھین لیتا ہے جنہوں نے اس کے بھیجے ہوئے قاصدوں پر ظلم کیا۔ آپ نے فرمایا: "خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو دے دی جائے گی جو اس کے تقاضے پورے کرے” (متی، باب 21، آیت 43). یہاں یہ پیغام واضح ہے کہ وراثت کا معیار نسب نہیں بلکہ کردار اور احتساب ہے۔ انجیلِ یوحنا، باب 8، آیت 39 میں جب یہود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل ہونے کا فخر جتایا، تو مسیح نے جواب دیا: "اگر تم واقعی ابراہیم کی اولاد ہوتے، تو ابراہیم جیسے عمل کرتے۔” یعنی حیاتیاتی تسلسل کے مقابلے میں اخلاقی اور روحانی تسلسل ہی اصل معیار ہے۔

اس طرح واضح کر دیا کہ خدا کی وراثت نسلی شناخت یا زمین کے دعوے سے وابستہ نہیں بلکہ اخلاقی عمل سے وابستہ ہے۔

روایت ہے کہ جب ان سے اسرائیل کی سیاسی بحالی کے بارے میں پوچھا گیا (اعمال، باب 1، آیات 6-7)، تو انہوں نے واضح کیا کہ یہ خدا کے فیصلے کا حصہ ہے اور ان کے مشن کا مقصد نہیں۔

نتیجتاً، عبرانی بائبل اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات دونوں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ بنی اسرائیل کا سرزمین فلسطین پر حق غیر مشروط یا دائمی نہیں ہے۔ یہ زمین الہیٰ امانت ہے اور اس پر ان کا حق اطاعت اور راستبازی کے تقاضے پورے کرنے کے ساتھ وابستہ ہے۔ جب یہ تقاضے پورے نہ ہوں تو زمین چھین لی جاتی ہے۔

یہی حقیقت اس وقت ظاہر ہوئی جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یروشلم کے ہیکل (بیت المقدس) کی تباہی کی پیش گوئی کی، جو حرف بہ حرف پوری ہوئی:

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ بھی واضح کیا کہ خدا کی وراثت کا معیار روحانی اور اخلاقی تبدیلی ہے، نہ کہ نسل یا قوم۔

قرآن مجید میں بھی بنی اسرائیل کے لیے اس سرزمین کے تاریخی فیصلے کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں: "اے میری قوم! اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے” (سورۃ المائدہ، آیت 21). تاہم، قرآن بھی دیگر کتبِ سماوی کی طرح اس حق کو اخلاقی ذمہ داریوں سے مشروط کرتا ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل (سورۃ الاسراء)، آیات 4 تا 8 میں واضح کیا گیا ہے کہ زمین پر فساد برپا کرنے کے نتیجے میں بنی اسرائیل کو اقتدار سے محروم کر کے سزا دی گئی۔ یہ ایک اٹل الٰہی ضابطہ ہے کہ الٰہی تائید کا تعلق محض قومیت سے نہیں بلکہ عدل و تقویٰ سے ہے۔

اسی سورت کی پہلی آیت (17:1) مسجدِ اقصیٰ کے گرد و نواح کی برکت کا ذکر کر کے بیت المقدس کے تقدس کی توثیق تو کرتی ہے، لیکن یہ کسی بھی گروہ کو ابدی سیاسی اجارہ داری کی سند عطا نہیں کرتی۔ بلکہ جب ہم سیاق و سباق دیکھتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ یروشلم کی تاریخ ایک اخلاقی تاریخ ہے، جہاں اقتدار ان کو ملتا ہے جو اس امانت کا حق ادا کریں۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ ان تمام صحائف کا مجموعی مطالعہ اس نظریے کی نفی کرتا ہے کہ الٰہی وعدہ کسی بھی قوم کو انصاف اور کردار سے قطع نظر کوئی دائمی سیاسی بالادستی دیتا ہے۔ زمین اللہ کی ہے جو انسانی گروہوں کو آزمائش کے لیے سونپی جاتی ہے۔ اقتدار کی عطا اور اس کی واپسی کا دارومدار راست بازی پر ہے۔

اس پر مستزاد یہ کہ جب یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مسیح ماننے سے انکار کیا اور بعد میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو بھی رد کر دیا تو بائبل کے مذکورہ بالا بیانات کی رو سے انہوں نے خدا تعالی کے فیصلے کو اپنے خلاف ہی یقینی بنا لیا۔

آج کے دور میں، جب وحی کا براہِ راست نزول تھم چکا ہے، محض قدیم مذہبی عہد ناموں کی بنیاد پر کسی دوسری قوم کے انسانی و سیاسی حقوق کو سلب کرنا عدل کے تقاضوں کے منافی ہے۔ بائبل اور قرآن، دونوں ہی حقانیت کی بنیاد "خون کے رشتے” پر نہیں، بلکہ "خدا کی بندگی اور انسانوں کے ساتھ انصاف” پر رکھتے ہیں۔

امید ہے کہ یہ وضاحت تشفی بخش ثابت ہوگی۔

دعاگو

مشفق سلطان
المورد


مزید تحریریں جو آپ کو دلچسپ لگیں