سوال:
کیا یہ بات درست ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اس دنیا میں رزق کمانے کی صلاحیت دے کر بھیجتے ہیں اور ہر انسان کی صلاحیت دوسرے انسان سے مختلف ہوتی ہے؟ اگر یہ درست ہے تو انسان اپنی عطا کردہ صلاحیت کو کیسے پہچانے یا تلاش کرے؟ اور آپ کی اس نظریے کے بارے میں کیا رائے ہے کہ دنیا میں تمام انسانوں کی 16 قسم کی شخصیات ہوتی ہیں؟
جواب:
السلام علیکم،
آپ کے سنجیدہ اور فکر انگیز سوال کا شکریہ۔
قرآن مجید میں ارشاد باری ہے:
"وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ”
"اور آسمان میں تو تمھارے لیے روزی بھی ہےاور وہ چیز بھی جس کی وعید تمھیں سنائی جا رہی ہے۔”
(الذاریات 51، آیت 22)
نیز فرمایا:
"وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا”
"زمین پر چلنے والا کوئی جان دار نہیں ہے، جس کی روزی اللہ کے ذمے نہ ہو۔”
(سورہ ہود 11، آیت 6)
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں رزق کے ذرائع سب کے لیے پیدا کر دیے ہیں۔ تاہم، ان تک رسائی ایک منظم نظام کے تابع ہے، جس میں شامل ہیں:
- محنت و کوشش (سَعْي)
- معاشرتی حالات و مواقع
- سماجی انصاف یا ظلم
- اللہ کی مشیّت
یعنی اللہ نے ہر انسان کو کچھ نہ کچھ صلاحیتیں (abilities) دی ہیں، لیکن ان کا فائدہ اسی صورت میں اٹھایا جا سکتا ہے جب انسان:
- اپنی صلاحیت کو پہچانے،
- اس پر محنت کرے،
- اور مواقع کی تلاش و تخلیق میں سرگرم رہے۔
- خدا تعالی سے رزق مانگے
اپنی صلاحیت کو پہچاننے کا طریقہ
صلاحیت کو پہچاننے کے لیے درج ذیل امور معاون ہو سکتے ہیں:
- دلچسپیوں (interests) کا جائزہ لینا: آپ کن کاموں میں فطری رغبت محسوس کرتے ہیں؟
- رجحانات (aptitudes): کن کاموں میں آپ دوسروں کی نسبت بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں؟
- تجربے: وقت کے ساتھ انسان جانتا ہے کہ کون سا شعبہ اسے مطمئن کرتا ہے یا اس میں وہ نمایاں ہو سکتا ہے۔
- مشورہ: تجربہ کار لوگوں سے مشورہ لینا، یا ماہرینِ نفسیات و تربیت سے aptitude tests کروانا۔
شخصیت کی 16 اقسام (MBTI)
Myers-Briggs Type Indicator (MBTI) جیسے ماڈل انسانی شخصیت کو مختلف زمروں میں تقسیم کرتے ہیں، مثلاً:
- Introvert vs Extrovert
- Thinker vs Feeler
- Judging vs Perceiving
یہ محض علم نفسیات میں مستعمل تجرباتی و مشاہداتی فریم ورکس میں سے ایک فریم ورک ہے، کوئی الہامی یا قطعی نظام نہیں۔ ان کا مقصد افراد کو خود فہمی، ذاتی تربیت، اور انسانی تعلقات بہتر بنانے میں مدد دینا ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے ان ماڈلز کو بطور تعلیمی آلہ استعمال کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ انھیں تقدیر کا فیصلہ کن نظام نہ سمجھا جائے۔
جیسا کہ قرآن مجید کہتا ہے:
"وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ”
’’اور تم میں سے ایک کو دوسرے سے بلند درجے دیے تاکہ جو کچھ اُس نے تمھیں عطا فرمایا ہے، اُس میں تمھارا امتحان کرے۔‘‘ (الأنعام 6، آیت 165)
خلاصہ
- اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو کچھ نہ کچھ منفرد صلاحیت عطا فرمائی ہے۔
- دنیا میں رزق کے ذرائع موجود ہیں، مگر ان تک رسائی کے لیے عمل، محنت، نظام، اور توفیقِ الٰہی درکار ہے۔ اپنی صلاحیت کو پہچاننے کے لیے دلچسپیوں، رجحانات، تجربے، اور جدید نفسیاتی ٹولز سے مدد لی جا سکتی ہے۔ شخصیت کے 16 اقسام والے نظریے کو مفید فہم فریم ورک سمجھا جا سکتا ہے، نہ کہ تقدیر کا حرفِ آخر۔










ایک تبصرہ برائے “خودشناسی: اپنی صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟”
جی متفق.
/
/