کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی نبوت پر شک تھا؟ سورہ یونس کی آیت 94 کا مفہوم

سوال سورہ یونس کی آیت 94 میں محمد صلى الله عليه وسلم کو یہ کیوں کہا گیا ہے کہ اگر انہیں شک ہو تو اہلِ کتاب سے رجوع کریں؟ کیا نبی کو اپنی نبوت پر کوئی شک تھا؟ جواب قرآن کی سورہ یونس کی آیات 94-95 میں فرمایا گیا ہے: فَإِن كُنتَ فِى شَكٍّۢ مِّمَّآ…


سوال

سورہ یونس کی آیت 94 میں محمد صلى الله عليه وسلم کو یہ کیوں کہا گیا ہے کہ اگر انہیں شک ہو تو اہلِ کتاب سے رجوع کریں؟ کیا نبی کو اپنی نبوت پر کوئی شک تھا؟

جواب

قرآن کی سورہ یونس کی آیات 94-95 میں فرمایا گیا ہے:

فَإِن كُنتَ فِى شَكٍّۢ مِّمَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ فَسْـَٔلِ ٱلَّذِينَ يَقْرَءُونَ ٱلْكِتَـٰبَ مِن قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَآءَكَ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ . وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ فَتَكُونَ مِنَ ٱلْخَـٰسِرِينَ

اگرچہ ان آیات میں خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، مگر بات درحقیقت اُنھی لوگوں کو سنانی مقصود ہے جو آپ کی دعوت میں شک کر رہے تھے۔ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو اپنی نبوت یا قرآن کی سچائی میں کبھی شک نہیں تھا۔ بلکہ یہ ایک بلیغ اندازِ کلام ہے، جو دراصل اُن لوگوں کے لیے تردید اور تنبیہ کے طور پر آیا ہے جو قرآن کے الٰہی ماخذ پر شک کر رہے تھے۔

درحقیقت، یہ ہدایت کہ "(اہل کتاب کے ) اُن (صالحین) سے پوچھ لو جو تم سے پہلے خدا کی کتاب پڑھ رہے ہیں” شک کرنے والوں کو دعوت ہے کہ وہ اُن اہلِ کتاب سے رجوع کریں جو کتابِ الٰہی کے حامل اور مخلص ہیں۔ یہ اعلان ہے کہ قرآن کی تعلیمات سابقہ آسمانی کتابوں یعنی تورات، زبور اور انجیل سے ہم آہنگ ہیں۔ جو لوگ ان کتابوں کا مطالعہ خلوص نیت سے کرتے ہیں، وہ قرآن میں بھی انہی سچائیوں کی تصدیق پائیں گے۔

اس طرزِ استدلال کی الہیاتی بنیاد

قرآن بار بار یہ اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کی طرف رسول بھیجے ہیں (10:47، 16:36)، اور محمد (صلى الله عليه وسلم) کا پیغام کوئی نیا پیغام نہیں بلکہ سابقہ صحیفوں کی تصدیق (مُصَدِّق) ہے۔ چنانچہ، پیغمبرانہ تعلیمات میں علمی اور اخلاقی تسلسل (continuity) پایا جاتا ہے۔ اگر یہ تسلسل واقعی موجود ہے، تو پچھلی امتوں کے سلیم الطبع قرآن کے پیغام کی صداقت کی گواہی دے سکتے ہیں۔

اس لحاظ سے، سورہ یونس کی یہ آیت نہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی تائید ہے، بلکہ بین المذاہب مکالمے (interreligious dialogue) کی دعوت بھی ہے۔ اس میں یہ امکان بھی موجود ہے کہ مخلص اہلِ کتاب الہامی تعلیم کو فرقہ وارانہ حدود سے بالاتر ہو کر پہچان سکتے ہیں۔

یہ استدلال کہ موجودہ پیغام کو سابقہ وحی یا قومی یادداشت کی روشنی میں پرکھا جائے، صرف قرآن تک محدود نہیں۔ بائبل میں بھی اس کی اساسات ملتی ہیں، مثلاً:

کتاب استثنا باب 32 آیت 7

یہ موسیٰ علیہ السلام کا کلام ہے، جس میں بنی اسرائیل کو ان کے عہد کی تاریخ یاد دلائی جا رہی ہے۔ جب خدا کی مداخلت یا ہدایت پر کوئی شک پیدا ہو، تو اپنے بزرگوں کی طرف رجوع کرو جنہوں نے غیر عمولی واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا یا روایتوں کے ذریعے محفوظ رکھا۔

یہ اسلوب سورہ یونس کی مذکورہ بالا آیت کے مطابق ہے: اگر تمہیں شک ہو، تو ان لوگوں سے رجوع کرو جو سابقہ وحی کے گواہ ہیں۔

لوقا باب 16 آیات 27-31

یہ تمثیل اُس مالدار شخص کی ہے جو مرنے کے بعد چاہتا ہے کہ اس کے بھائیوں کو عذاب سے خبردار کیا جائے۔ ابراہیم علیہ السلام کا جواب ہوتا ہے: "ان کے پاس موسیٰ اور انبیاء ہیں، وہ ان کی سنیں۔” یہ انکار اس بات پر زور دیتا ہے کہ سابقہ وحی ہی سچائی کے لیے کافی ہے۔ اگر کوئی اس سے راہنمائی حاصل نہ کرے، تو اسے بعد کی کوئی دلیل یا معجزہ بھی قائل نہیں کر سکتا۔

اسی اسلوب کو قرآن دُہراتا ہے: سابقہ صحیفے موجود ہیں، جو مخلصانہ غور و فکر کے ذریعے محمد صلى الله عليه وسلم کی نبوت کی تائید کر سکتے ہیں۔

نتیجہ

لہٰذا سورہ یونس کی آیت 94 کا مطلب نبی صلى الله عليه وسلم کی ذاتی تشویش نہیں بلکہ شک کرنے والوں کو چیلنج دینا ہے۔ مطلب یہ ہے:

"اگر تمہیں اس پیغام کے بارے میں تردد ہے، تو ان لوگوں سے رجوع کرو جو الٰہی صحیفے رکھتے ہیں۔ اگر وہ مخلص ہوں، تو اُن کی گواہی بھی اسی سچائی کی تصدیق کرے گی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے۔”

یہ طریقہ نہ صرف قرآنی تعلیم کا حصہ ہے، بلکہ بائبل کی روایت کا بھی تسلسل ہے، جس میں سچائی کو پچھلے انبیاء، نسلوں اور صحیفوں کی روشنی میں جانچنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ یہ پیغام دیتا ہے کہ الیامی تعلیم ایک تسلسل رکھتی ہے—ایسا تسلسل جو ہر دور کے مخلص لوگوں کے لیے قابل شناخت اور قابل تصدیق ہے۔


مزید تحریریں جو آپ کو دلچسپ لگیں