کیا خدا نے سرزمینِ فلسطین بنی اسرائیل کو دائمی میراث کے طور پر دے دی ہے؟

بائبل بنی اسرائیل کو فلسطین پر غیر مشروط اور دائمی حق نہیں دیتی۔ زمین کو عہد اور اطاعت کے ساتھ مشروط الٰہی امانت قرار دیتی ہے؛ نافرمانی پر جلاوطنی اور حق چھن جانا مقدر ہے۔ عہدِ جدید میں وراثت کا معیار اخلاقی و روحانی ثمرات ہیں۔


سوال:

صیہونی یہودی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ خدا تعالی نے بائبل میں ان کے لیے سرزمین فلسطین ابدی میراث کے طور پر لکھ دی ہے، اس لیے فلسطینیوں کا اس سرزمین پر کوئی حق نہیں بنتا۔ کیا یہ بات درست ہے؟ اور کیا اس سے دنیا میں ناانصافی اور ظلم نہیں پھیلتا؟

جواب:

بائبل میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ بنی اسرائیل کو سرزمین فلسطین (کنعان) پر غیر مشروط اور دائمی حق حاصل ہے۔ اگرچہ خدا نے بنی اسرائیل سے اس زمین کا وعدہ کیا تھا، لیکن یہ وعدہ ہمیشہ عہد اور اطاعت کے تناظر میں بیان ہوا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اس زمین پر حق صرف اسی صورت میں برقرار رہ سکتا ہے جب بنی اسرائیل دینی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں۔

پیدائش (Genesis) کی کتاب باب 12, آیت اور باب 15, آیت 18 میں یہ وعدہ درج ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کو یہ زمین دی جائے گی۔ تاہم تورات کے آگے کے ابواب میں واضح کر دیا گیا ہے کہ اس زمین پر قبضہ اور مستقل رہائش بنی اسرائیل کی خدا کے احکام کی پاسداری سے مشروط ہے۔
یہ شرط سب سے زیادہ وضاحت کے ساتھ استثنا (Deuteronomy) باب 28 اور احبار (Leviticus) باب 26 میں بیان ہوئی ہے۔ ان ابواب میں کہا گیا ہے کہ اگر بنی اسرائیل اطاعت کریں گے تو وہ خوشحالی اور برکتوں سے نوازے جائیں گے، لیکن اگر وہ نافرمانی کریں گے تو وہ لعنت کے مستحق ہوں گے، جلاوطن کیے جائیں گے اور زمین ان سے چھین لی جائے گی۔ استثنا میں صاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ عہد کو توڑیں گے تو خدا انہیں اس زمین سے اٹھا کر دوسری قوموں میں بکھیر دے گا۔

یہی بات انبیاء بنی اسرائیل کی تعلیمات میں بھی بار بار دہرائی گئی ہے۔ حضرت یرمیاہ علیہ السلام اور حضرت حزقی ایل علیہ السلام جیسے انبیاء نے اس بات پر زور دیا کہ یہ زمین کسی قوم کی مستقل ملکیت نہیں بلکہ خدا کی امانت ہے، جو اس وقت واپس لی جا سکتی ہے جب قوم شرک، ظلم اور شریعت شکنی میں مبتلا ہو جائے۔

حضرت یرمیاہ نے فرمایا کہ اگر لوگ اپنی راہ درست نہ کریں تو وہ اس زمین پر رہنے کے حق دار نہیں رہیں گے (یرمیاہ باب 7، آیات 3-7)۔

اسی طرح حضرت حزقی ایل نے خبردار کیا کہ راستبازی کے بغیر محض نسل کے دعوے پر اس زمین کی میراث کا دعوی کرنا درست نہیں (حزقی ایل باب 33، آیات 24-26)۔

ان تمام نصوص میں جلاوطنی کو خدا کی طرف سے عہد شکنی کی سزا کے طور پر بیان کیا گیا ہے، نہ کہ محض کوئی سیاسی حادثہ۔

عہد نامہ جدید (New Testament) میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس تصور کو مزید واضح کر دیا۔ انہوں نے بات کو نسلی اور جغرافیائی دعاوی سے ہٹا کر اخلاقی اور روحانی اہلیت پر مرکوز کر دیا۔ انہوں نے یہ اس سوچ کو چیلنج کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسلی اولاد ہونا از خود خدا کی عنایت اور وراثت کی ضمانت ہے۔

یوحنا باب 8، آیت 39 میں حضرت عیسیٰ نے فرمایا:


یعنی حقیقی نسبت اخلاقی تسلسل اور اعمال سے ثابت ہوتی ہے، نہ کہ صرف خونی رشتے سے۔

اسی طرح متی کی انجیل، باب 21، آیت 43 میں فرمایا:

اس طرح واضح کر دیا کہ خدا کی وراثت نسلی شناخت یا زمین کے دعوے سے وابستہ نہیں بلکہ اخلاقی عمل سے وابستہ ہے۔

روایت ہے کہ جب ان سے اسرائیل کی سیاسی بحالی کے بارے میں پوچھا گیا (اعمال، باب 1، آیات 6-7)، تو انہوں نے واضح کیا کہ یہ خدا کے فیصلے کا حصہ ہے اور ان کے مشن کا مقصد نہیں۔

نتیجتاً، عبرانی بائبل اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات دونوں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ بنی اسرائیل کا سرزمین فلسطین پر حق غیر مشروط یا دائمی نہیں ہے۔ یہ زمین الہیٰ امانت ہے اور اس پر ان کا حق اطاعت اور راستبازی کے تقاضے پورے کرنے کے ساتھ وابستہ ہے۔ جب یہ تقاضے پورے نہ ہوں تو زمین چھین لی جاتی ہے۔

یہی حقیقت اس وقت ظاہر ہوئی جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یروشلم کے ہیکل (بیت المقدس) کی تباہی کی پیش گوئی کی، جو حرف بہ حرف پوری ہوئی:

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ بھی واضح کیا کہ خدا کی وراثت کا معیار روحانی اور اخلاقی تبدیلی ہے، نہ کہ نسل یا قوم۔

اس پر مستزاد یہ کہ جب یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مسیح ماننے سے انکار کیا اور بعد میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو بھی رد کر دیا تو بائبل کے مذکورہ بالا بیانات کی رو سے انہوں نے فلسطین پر اپنی ملکیت کا حق کھو دیا۔

امید ہے کہ یہ وضاحت آپ کے لیے مفید ثابت ہوگی۔

خاکسار

مشفق سلطان
المورد


مزید تحریریں جو آپ کو دلچسپ لگیں