قل العفو کا مفہوم

مندرجہ ذیل سوالات سے متعلق مجھے آپ کی رہنمائی چاہیے:1 ۔ قل العفو کا کیا تقاضا ہے ۔ بعض لوگ اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ مال رکھنا درست نہیں۔ اگر یہ بات ہے تو پھر وراثت کا قانون کس لیے ہے؟2 ۔ کیا صرف سرمایہ لگا کر منافع حاصل کرنا…


سوال

مندرجہ ذیل سوالات سے متعلق مجھے آپ کی رہنمائی چاہیے:

1 ۔ قل العفو کا کیا تقاضا ہے ۔ بعض لوگ اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ مال رکھنا درست نہیں۔ اگر یہ بات ہے تو پھر وراثت کا قانون کس لیے ہے؟

2 ۔ کیا صرف سرمایہ لگا کر منافع حاصل کرنا جائز ہے؟

جواب

امید ہے آپ بخیر ہوں گے ۔

آپ نے پوچھا ہے کہ

1 ۔ قل العفو کا کیا تقاضا ہے ۔ بعض لوگ اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ مال رکھنا درست نہیں۔ اگر یہ بات ہے تو پھر وراثت کا قانون کس لیے ہے ۔

العفو کا مطلب اخراجات سے زائد کا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کے سامنے دین کی یا معاشرے کی یا فرد کی ضرورت آ جائے اور اس کے پاس اس کی ضروریات سے زائد مال پڑا ہوا ہے تو اسے اس مال کو اس ضرورت پر خرچ کرنا ہے اور اگر وہ خرچ نہیں کرتا تو گنہگار ہوتا ہے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ضروریات سے زائد مال رکھ نہیں سکتا ۔

یہ آیت فرض زکوۃ کے علاوہ انفاق سے متعلق ہے ۔ انفاق کے حوالے سے قرآن مجید کی اس ہدایت (بنی اسرائیل 17 : 29) کو سامنے رکھیں کہ نہ بخیلی ہونی چاہیے اور نہ اس طرح خرچ کرنا چاہیے کہ آدمی خود محتاج اور لاچار ہو کر رہ جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس آیت سے کیا مراد ہے۔

اسی طرح آپ کی بات بالکل درست ہے کہ قانون وراثت کی موجودگی بھی اس بات کی نفی کرتی ہے کہ ضرورت سے زائد مال رکھنا بالکلیہ ممنوع ہے ۔ مراد صرف یہ ہے کہ کسی ضرورت کے سامنے آنے پر انفاق سے گریز جائز نہیں ہے ۔

2 ۔ کیا صرف سرمایہ لگا کر منافع حاصل کرنا جائز ہے؟

بعض لوگوں نے یہ بحث پیدا کی ہے کہ محض سرمایے پر منفعت لینا سود ہے ۔ سود کا تعلق قرض سے ہے ۔ حضور کا ارشاد ہے 

"انما الربا فی النسيئة” 

 (سود صرف ادھار میں ہے۔)

 سود کی حرمت کی وجہ مال پر بغیر کسی استحقاق کے اضافہ طلب کرنا اور اصل زر کو بعینہ قائم رکھنا ہے ۔ جبکہ سرمایہ کاری کرنے والا نفع و نقصان میں بقدر حق شامل ہوتا اور اصل زر میں بھی کمی بیشی کا سامنا کرتا ہے ۔ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے مالی سرگرمی میں پوری طرح شریک ہے ۔ جبکہ سود خور ایک طفیلیہ (parasite) ہے ۔ جو اپنے شکار کا خون چوستا اور اس کے مرنے پر نئے شکار کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے ۔ دونوں کا فرق واضح ہے ۔

مجیب: Talib Mohsin

اشاعت اول: 2015-07-15

مزید تحریریں جو آپ کو دلچسپ لگیں