سوال
کیا ذو الحج کے پہلے عشرے کو دین میں کوئی خاص فضیلت حاصل ہے ؟
جواب
جی ہاں،رسول اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اِن دس دنوں اور اِن میں کیے جانے والے اعمالِ صالحہ کو اللہ تعالٰی کے نزدیک غیر معمولی اہمیت وفضیلت حاصل ہے ۔ آپ کا فرمان ہے : اِن دس دنوں میں نیک اعمال انجام دینا اللہ تعالٰی کے نزدیک جتنا زیادہ محبوب اور افضل ہے ، وہ دوسرے کسی بھی دنوں میں نہیں ہے ۔ اِس پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا( اِن دنوں کے سوا باقی دنوں میں کیا گیا) اللہ کی راہ میں جہاد بھی ( اِن دس دنوں میں کیے گیے نیک اعمال سے) زیادہ فضیلت نہیں رکھتا ۔ آپ نے فرمایا: جی ہاں، اُسے بھی یہ درجہ حاصل نہیں ہے،الّا یہ کہ کوئی شخص اپنے جان ومال کے ساتھ (اللہ کی راہ میں) نکلا ہو اور پھر وہ اپنا سبھی کچھ گنوا بیٹھے (تو اُسے بہرحال ارفع مقام حاصل ہے)۔ (بخاری، رقم: 969۔احمد،رقم:1968 ۔ ابوداود،رقم:2438 ۔ ترمذی،رقم 757 ۔ ابن ماجہ،رقم : 1414)
مذکورہ بالہ حدیث کے الفاظ سے یہ بات بہرحال واضح ہے کہ عملِ صالح یہاں اپنے عموم میں بیان ہوا ہے ۔ کوئی متعین یا خاص نیک عمل یا عبادت یہاں قطعاً زیر بحث نہیں ہے ۔
مجیب: Muhammad Amir Gazdar
اشاعت اول: 2015-10-18







