حديث ” رؤيا المؤمن جزء من ستۃ و اربعين جزء من النبوۃ ” اور مرزا کي نبوت

بخاري كي حديث ميں ہے: "رؤيا المؤمن جزء من ستة و اربعين جزء من النبوة” مرزائي اس قسم کي روايات مرزا کي نبوت کی دليل ميں پيش کرتے ہيں اور کہتے ہيں کہ حديث سے ثابت ہوتا ہے کہ جزوي نبوت جاري ہے۔ اس راۓئے اور حديث کے بارے ميں آپ کا کيا خيال ہے؟


سوال

بخاري كي حديث ميں ہے: "رؤيا المؤمن جزء من ستة و اربعين جزء من النبوة” مرزائي اس قسم کي روايات مرزا کي نبوت کی دليل ميں پيش کرتے ہيں اور کہتے ہيں کہ حديث سے ثابت ہوتا ہے کہ جزوي نبوت جاري ہے۔ اس راۓئے اور حديث کے بارے ميں آپ کا کيا خيال ہے؟

جواب

نبوت خدا کي طرف سے ہدايت پا کر انسانوں کي رہنمائي کا منصب ہے۔ ختم نبوت کے لفظ سے قرآن مجيد ميں يہ بات واضح کر دي گئي ہے کہ نبوت کے ذريعے سے رہنمائي کا يہ سلسلہ ختم ہو گيا ہے۔ آپ نے جو روايت نقل کي ہے اس ميں خواب کو نبوت کا چھیاليسواں حصہ کہا گيا ہے۔ ايک دوسري روايت ميں آپ نے يہي بات ” لم يبق من النبوۃ الا المبشرات” کے الفاظ ميں بيان کي ہے۔ مبشرات کے لفظ سے واضح ہے کہ يہ خواب کسي ديني رہنمائي کا ذريعہ نہيں ہوتے بلکہ روز مرہ کي زندگي کے متعلق ہوتے ہيں۔ مرزا صاحب کي نبوت اللہ تعالي سے باقاعدہ وحي پانے کا دعوي ہے۔ اس کے ليے اس طرح کے کمزور دلائل سے استشہاد قابل قبول نہيں ہے۔ محمد بن عبد اللہ صلي اللہ عليہ وسلم اپنے امتيوں کو کسي ابہام ميں چھوڑ کر نہيں گئے۔ يہ امت ہميشہ سے بغير کسي اختلاف کے اس عقيدے پر قائم ہے کہ اب کسي نبي کے آنے کا کوئي امکان نہيں ہے۔ کسي نئي نبوت کو ماننا قرآن مجيد کي صريح نص کے خلاف ہے۔ خواب سے متعلق ان روايات کو قرآن مجيد کے لفظ ختم نبوت کے تحت رکھ کر سمجھا جائے گا۔ اس کا کوئي ايسا مطلب نہيں ليا جا سکتا جس سے ختم نبوت کے صريح معني کي نفي ہوتي ہو۔

مجیب: Talib Mohsin

اشاعت اول: 2015-08-15

مزید تحریریں جو آپ کو دلچسپ لگیں