بھکاریوں کو خیرات دینا

بھکاریوں کو خیرات دینی چاہیے جبکہ میں نے سنا ہے کہ بھیک مانگنا جائز نہیں ہے۔


سوال

بھکاریوں کو خیرات دینی چاہیے جبکہ میں نے سنا ہے کہ بھیک مانگنا جائز نہیں ہے۔

جواب

قرآن مجید نے سائل اور محروم کا الگ الگ ذکرکیا ہے اور ان کو دینے کی تلقین کی ہے۔ اس لیے آپ مانگنے والے کو دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں نہ دیناچاہیں تو معذرت بھی کر سکتے ہیں۔ بھیک مانگنا ایک بری بات ہے لیکن اسے ناجائز قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں۔ جن محتاجوں کی کوئی شنوائی نہ ہو وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اصل میں یہ ایک پیشہ بھی بن گیا ہے اس وجہ سے اس کی مذمت کی جاتی ہے۔ لیکن چونکہ اس میں امکان ہے کہ حقیقی محتاج موجود ہو اس لیے اس کے بارے میں کوئی ایک قاعدہ اختیار کرنا درست نہیں ہو گا۔

مجیب: Talib Mohsin

اشاعت اول: 2015-07-25

مزید تحریریں جو آپ کو دلچسپ لگیں