یتیم پوتوں کی وراثت

15

سوال

جو بیٹا والد کی موجودگی میں فوت ہو جائے کیا اس کی بیوہ اور اولاد وراثت کی حق دار ہے ؟

جواب

قرآن
مجید میں جب وراثت کا حکم بیان ہوا تو اس میں اولاد ،والدین، بیوی، شوہر
اور بہن بھائیوں کے حصے بیان ہوئے ہیں۔ ان حصوں کو بیان کرنے کے لیے انھی
الفاظ کے عربی مترادفات آئے ہیں۔ میری مراد یہ ہے کہ یتیم پوتے کی وراثت کا
براہ راست ذکر نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک، اس کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ یہ
پوتا اپنے والد کے حصے کا حق دار نہ ہو۔ ہمارے نزدیک ، اگر مرنے والے کی
اولاد میں سے کوئی بیٹا یا بیٹی زندہ نہ ہو ، لیکن اس کی اولاد موجود ہو تو
اس بیٹے یا بیٹی کا حصہ نکالا جائے گا۔ پھر اس حصے کو قرآن مجید کے مقرر
کردہ حصوں کے مطابق اس کی اولاد وغیرہ میں تقسیم کیا جائے گا۔

مجیب: Talib Mohsin

اشاعت اول: 2015-08-03

تعاون

ہمیں فالو کریں

تازہ ترین

ماہنامہ اشراق لاہور کا مطالعہ کریں

خبرنامہ کو سبسکرائب کریں

اپنا ای میل پر کریں اور بٹن کو دبائیں

By subscribing you agree with our terms and conditions

Loading