سوال
میں نے اپنی بیوی
کو غصے میں دی ہوئی تین طلاقوں کے بارے میں علما سے فتویٰ طلب کیا تھا۔
انھوں نے مجھے یہ فتویٰ دیا کہ آپ اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں دے چکے ہیں،
لہٰذا اب کچھ بھی نہیں ہو سکتا سوائے اس کے کہ حلالہ شرعی کو اختیار کیا
جائے۔
جواب
آپ نے اپنے طلاق کے معاملے میں جو فتویٰ حاصل کیا ہے، وہ احناف کے نقطہ نظر کے مطابق ہے۔ چنانچہ اس کے مطابق آپ کی بیان کردہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور آپ کی بیوی ہمیشہ کے لیے آپ پر حرام ہو چکی ہے حتیٰ کہ حلالہ شرعی کے بعد وہ آپ سے دوبارہ نکاح کر لے۔
علماے احناف طلاق کے صریح الفاظ بولے جانے کی صورت میں آدمی کی نیت کو کوئی حیثیت نہیں دیتے۔ بہرحال، یہ ان کا نقطہ نظر ہے۔
استاذ محترم غامدی صاحب غصے سے مغلوب ہو کر دی گئی طلاق کو طلاق شمار نہیں کرتے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا طلاق ولا عتاق فی غلاق.(ابوداؤد،رقم٢١٩٣)
”غصے سے مغلوب ہو کر دی ہوئی طلاق موثر ہوتی ہے اور نہ غلام کی آزادی کا فیصلہ۔”
نیز ان کے خیال میں طلاق کا لفظ بولتے وقت آدمی کی نیت طلاق کی تھی بھی یا نہیں یا یہ کہ وہ طلاق کے بارے میں کیا معلومات رکھتا ہے، یہ سب باتیں ان کے نزدیک طلاق کے کسی مقدمے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
بہرحال، علما کے درمیان آراکایہ اختلاف موجود ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف فتویٰ بے معنی چیز ہے۔ امید ہے یہ آپ کا مقصودبھی نہیں ہو گا۔
موجودہ صورت حال میں یہ فیصلہ آپ ہی کے ذمے ہے کہ آپ کو کس فقیہ کی راے کے مطابق عمل کرنا ہے۔ اگر آپ ہماری راے کے مطابق فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو پھر یہ دیکھ لیجیے کہ طلاق دینے والا ،طلاق دیتے وقت کیا واقعۃً غصے سے مغلوب تھا، اگر آپ اطمینان سے یہ بات کہہ سکتے ہیں تو پھر آپ اس کے مطابق عمل کریں، ورنہ نہیں۔
مجیب: Muhammad Rafi Mufti
اشاعت اول: 2015-06-28







