سوال
پچھلے دنوں میرے ایک عزیز کی وفات ہوئی ہے،جن کے پسماندگان میں والدین،ایک بیوی،ایک بیٹا،ایک بیٹی،ایک بہن اور ایک بھائی ہے۔ متوفٰی کے اہل خانہ اُن ترکے کی شرعی تقسیم کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ برائے کرم قرآن مجید کی روشنی جواب عنایت فرمائیں۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں قرآنِ مجید کے قانونِ وراثت کے مطابق متوفی کا تَرکہ اُس کے وُرثا میں جس طرح تقسیم کیا جائے گا،بالترتیب اُس کی تفصیل یہ ہے :
1۔ تقسیمِ وراثت سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ متوفٰی کے ذمہ کسی شخص یا ادارے کا کوئی واجب الادا قرض تو نہیں ہے۔ اگر ہے تو سب سے پہلے اُس کے مال سے اُس قرض کو ادا کیا جائے گا۔
2۔ یہ معلوم کیا جائے گا کہ میت نے اپنے وُرثا کے سوا کسی فرد یا مصرف کے لیے اپنے مال میں سے کچھ دینے کی وصیت تو نہیں کی ہے۔ اِس طرح کی کوئی وصیت اگر واقعتاً موجود ہے تو پھر مالِ متروکہ میں سے اُسے ادا کیا جائے۔
3۔ اب اُس کے بچے ہوئے کُل ترکہ میں سے چھٹا حصہ متوفٰی کے والدین میں سے ہر ایک کو اور آٹھواں حصہ اُس کی بیوی کو ملے گا۔
4۔ اب تَرکہ میں سے جو کچھ بچے گا وہ سارا کا سارا متوفٰی کے ایک بیٹے اور ایک بیٹی میں اِس طرح تقسیم کردیا جائے گا کہ بیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں دونا ملے۔
5۔ صورتِ مسئولہ میں قرآن کی شریعتِ میراث کے مطابق میت کے بہن اور بھائی کے لیے اُس کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ میت کے مال میں بہن بھائیوں کا حصہ قرآن نے اُسی صورت میں رکھا گیا ہے جب اُس کے اولاد نہ ہو۔ اُس صورت میں اللہ تعالٰی نے اُنہیں اولاد کے قائم مقام ٹھیرایا ہے۔ (سورۂ نسا4 : 11۔12)
مجیب: Muhammad Amir Gazdar
اشاعت اول: 2015-10-17







