سوال
کیا حج وعمرہ کی شریعت میں حُجاج کے لیے رمی جَمرات کے کنکر اُٹھانے کی کوئی خاص جگہ اور میدان مقرر ہے،جیسا کہ بعض کتابوں میں لکھا اور حُجاج کی ایک بڑی تعداد کو دیکھا گیا ہے کہ رمی کے لیے کنکریاں وہ خاص طور پر مُزدلفہ کے میدان ہی سے اُٹھاتے ہیں ؟
جواب
پاک وہند کے اکثر حجاج یہی خیال کرتے ہیں کہ کنکریاں مزدلفہ کے میدان ہی سے اُٹھانی ہوں گی ۔ وہ حج میں اِسے ایک عملِ مشروع اور مناسک کا حصہ سمجھتے ہیں۔چنانچہ بالعموم دیکھا گیا ہے کہ اِس میدان میں پہنچ کر لوگوں کی ایک بڑی تعداد پہلے مغرب وعشا کی نمازوں کی ادائیگی کے بجائے کنکریاں اُٹھانے میں مشغول ہوجاتی ہے ۔ اور مزید یہ کہ تمام ایاّمِ تشریق کی رمی کے لیے بھی کنکریاں وہیں سے اُٹھا کر وہ اپنے پاس محفوظ کرلیتے ہیں۔
شریعت کی رو سے مناسکِ حج میں اِس عمل کی قطعاً کوئی دینی حیثیت نہیں ہے ۔ آدمی جہاں سے چاہے،جتنی چاہے، کنکریاں اُٹھاسکتا ہے ۔ اِس کے لیے کوئی خاص مقام شریعت میں مقرر نہیں کیا گیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور ادائیگی حج کے باب میں آپ کے اُسوہ کی روایتوں میں بھی اِس کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے ۔ چنانچہ اِس کی اصلاح کرلینی چاہیے ۔
مجیب: Muhammad Amir Gazdar
اشاعت اول: 2015-10-17







