سوال
میں چند سوالات عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ۱۔ میرا سوال یہ ہے کہ قرآن مجید میں جب نساء کی آیت ٦٥ میں ‘سلموا تسليما’ کا ترجمہ سر تسلیم خم کرنا ہے تو پھر احزاب کی آیت ٥٦ میں اس کا ترجمہ سلام بھیجنا کیوں کیا جاتا ہے؟ ۲۔ اہل کتاب کا قبلہ مسجد اقصی تھا، جب کعبہ قبلہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو دوسرا قبلہ کیوں دیا؟ ۳۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد اقصیٰ کو قبلہ کے طور پر کیوں استعمال کیا جب کہ کعبہ موجود تھا؟ کیا کعبہ سے پہلے مسجد اقصیٰ بیت اللہ کہلاتی تھی؟ برائے مہربانی تفصیلی جوابات ارسال کریں۔
جواب
آپ کے سوالات کا جواب، بالترتیب، حسب ذیل ہے:
١۔ آپ نے کہا ہے کہ جب نساء کی آیت ٦٥ میں ‘سلموا تسليما’ کا ترجمہ سر تسلیم خم کرنا ہے تو پھر احزاب کی آیت ٥٦ میں اس کا ترجمہ سلام بھیجنا کیوں کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی زبان میں ‘سلم’ کا فعل دونوں معنوں میں آتا ہے اور ہر موقع پر سیاق وسباق کے لحاظ سے اس کا مفہوم متعین کیا جاتا ہے۔ نساء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کی اطاعت زیر بحث ہے، اس لیے یہاں سر تسلیم خم کرنا ہی مراد ہو سکتا ہے جبکہ احزاب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعاے رحمت کرنے کا بیان ہے اور اس کے موقع پر ‘سلموا’ کا معنی آپ پر سلام بھیجنا ہی موزوں ہے۔
٢۔ اہل کتاب کے لیے مسجد اقصیٰ کو قبلہ مقرر کرنے کی ایک حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ کسی بھی قوم کے لیے قبلے کی حیثیت سے اسی عبادت گاہ کو مقرر کرنا موزوں ہے جو اس کے تصرف میں ہو اور وہ وہاں اپنے خاص مراسم بھی عبادت ادا کر سکے۔ ذریت ابراہیم کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد بیت اللہ کو مرکز ملت کے طور پر بنی اسماعیل کی تولیت میں دیا گیا تھا جبکہ مسجد اقصیٰ کو بنی اسرائیل کی۔ اس لیے ان کے لیے مسجد اقصیٰ ہی کو قبلہ کرنا قرین حکمت تھا۔
٣۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ عرصے کے لیے مسجد اقصیٰ کو قبلہ مقرر کرنے کی حکمت قرآن نے یہ بیان کی ہے کہ اس طرح مدعین ایمان کی آزمائش مقصود تھی کہ آیا وہ قومی تعصبات کی پیروی میں ایمان سے برگشتہ ہو جاتے ہیں یا اللہ کے حکم کی اطاعت میں اس نئے حکم کو قبول کر لیتے ہیں۔ ارشاد ہوا ہے:
وما جعلنا القبلة التی کنت عليها الا لنعلم من يتبع الرسول ممن ينقلب علی عقبيه (البقره)
”ہم نے وہ قبلہ جس پر آپ تھے، صرف اس لیے مقرر کیا تھا تاکہ ہم جان لیں کہ رسول کی پیروی کون کرتا ہے اور ایڑیوں کے بل الٹا کون پھر جاتا ہے۔”
والله اعلم
مجیب: Ammar Khan Nasir
اشاعت اول: 2015-10-10







