اسلامی نظام بینکاری کی مختلف شکلیں

اسلامی نظام بینکاری کی مختلف شکلوںمثلاً مرابحہ، اجارہ اور مضاربہ کے بارے میں غامدی صاحب کی کیا راے ہے؟ (منصور احمد): بعض اسلامی بینکوں کی متعارف کردہ اجارہ اسکیم کے تحت لیز پر کار لینا صحیح ہے یا نہیں؟ (عفان صادق)


سوال

اسلامی نظام بینکاری کی مختلف شکلوںمثلاً مرابحہ، اجارہ اور مضاربہ کے بارے میں غامدی صاحب کی کیا راے ہے؟ (منصور احمد)

: بعض اسلامی بینکوں کی متعارف کردہ اجارہ اسکیم کے تحت لیز پر کار لینا صحیح ہے یا نہیں؟ (عفان صادق)

جواب

مرابحہ، اجارہ اور مضاربہ میں سے صرف اجارہ ہی صحیح ہے، اگر وہ واقعۃً کرایے اور ملکیت کو الگ الگ واضح کرکے اختیار کیا جائے۔ باقی دونوں میں بینکوں کے ہاں جو صورت بنتی ہے، اس میں خرابی موجود نظر آتی ہے۔

بینک کی عام اسکیم کے تحت کار کے لیے قرض لے لیں یا اجارہ اسکیم کے تحت لیز پر کار لے لیں، غامدی صاحب کے نزدیک دونوں کی اجازت ہے۔
اجارہ اسکیم کے حوالے سے اصولی بات یہ ہے کہ یہ اسکیم سود سے پاک ہے، بشرطیکہ بینک واقعۃً کرایے اور ملکیت کو الگ الگ واضح کرکے اسے اختیار کرے۔
تاہم یہ معلوم کرنا کہ فلاںبینک کی اجارہ اسکیم سود سے بالکل پاک ہے یا نہیں؟ تو اس کے لیے ضروری ہے کہ بینک کی اس اسکیم کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے۔

مجیب: Muhammad Rafi Mufti

اشاعت اول: 2015-07-08

مزید تحریریں جو آپ کو دلچسپ لگیں