سورۂ بني اسرائيل کي آيت 7 اور 104 ميں ” وعد الآخرۃ ” سے مراد

سورۂ بني اسرائيل کي آيت 7 اور 104 ميں ” وعد الآخرۃ ” آيا ہے۔ يہ الگ الگ وعدے ہيں يا ايک ہي وعدہ ہے اور وہ وعدہ کون سا ہے؟


سوال

سورۂ بني اسرائيل کي آيت 7 اور 104 ميں ” وعد الآخرۃ ” آيا ہے۔ يہ الگ الگ وعدے ہيں يا ايک ہي وعدہ ہے اور وہ وعدہ کون سا ہے؟

جواب

آيت 7 ميں دنيا ہي ميں بني اسرائيل کے گرفت ميں آنے کے موقع کا ذکر ہے اور آيت 104 ميں قيامت کا ذکر ہے۔ آيت 104 ميں ” وعد الآخرۃ ” سے آخرت کا مراد ہونا بالکل واضح ہے اس ليے کہ اس کے ساتھ متصل بني اسرائيل کو اکٹھا کرنے کا ذکر ہے اور اس سے پہلے ان کے فرعون سے نجات کا حوالہ ہے۔ اس آيت ميں ان سے کہا گيا ہے کہ وہ اس نجات اور کاميابي کے بعد بھي آخرت کو ياد رکھيں اور خدا کے حضور پيشي کو فراموش نہ کريں۔ جبکہ آيت 7 ميں دنيا ميں ان کے گرفت ميں آنے کا ذکر ہے اور اس سے پہلے آيت 4 ميں ان کے دو مرتبہ زمين ميں فساد کرنے کي پيشين گوئي کا ذکر کيا گيا۔ آيت 7 ميں اسي فساد ثاني کے ليے دوسرے وعدے کي تعبير اختيار کي گئي ہے۔ آيت ميں کہا گيا ہے کہ جب يہ دوسرا وعدہ پورا ہوا تو تم اس طرح مسجد ميں داخل ہونے کے لائق نہيں تھے جيسے تم پہلي مرتبہ داخل ہوۓ تھے۔ آيت ہي سے واضح ہے کہ يہ وعدہ دنيا سے متعلق ہے۔

مجیب: Talib Mohsin

اشاعت اول: 2015-08-15

مزید تحریریں جو آپ کو دلچسپ لگیں