سوال
کیا اسٹاک ایکسچینج میں بینکوں کے شیئرز خریدنا حرام ہے، جبکہ ان کی قیمتیں اوپر اور نیچے ہوتی رہتی ہیں اور ان پر جو منافع دیا جاتا ہے، وہ بھی کم اور زیادہ ہوتا رہتا ہے؟ اس صورت میں کیا یہ نفع و نقصان جیسی چیز نہیں بن جاتی؟
جواب
بینک ایک ایسا ادارہ ہے جو اصلاً سودی کاروبار کرتا ہے، یعنی وہ کچھ لوگوں سے سود کی کم شرح پر رقم لیتا اور دوسرے لوگوں کو وہی رقمیں سود کی زیادہ شرح پر دیتا ہے۔ یہی اس کا اصل کاروبار ہے اور اسی سے وہ اپنا منافع کماتا ہے۔ لہٰذااس کی کمائی بھی حرام ہے اور اس میں حصہ دار بننا بھی حرام ہے۔
جب آپ کسی بینک کے شیئر ہولڈر بنتے ہیں تو ظاہر ہے کہ آپ اس کے مالکان میں سے ایک فرد ہوتے ہیں۔ چنانچہ اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ مارکیٹ میں بینک کے شیئرز کی قیمت کبھی کم ہوتی ہے اور کبھی زیادہ اور ان شیئرز پر جو منافع ہوتا ہے، وہ بھی یکساں نہیں رہتا۔ بہرحال، یہ شیئر ہولڈر بینک کے مالکان میں سے ہے اور وہ اپنے سودی ادارے سے اپنا نفع حاصل کرتا ہے۔ لہٰذا ہمارے خیال میں بینک کے شیئرز لینے سے لازماً بچنا چاہیے کیونکہ ان کی تجارت حرام ہے۔
مجیب: Muhammad Rafi Mufti
اشاعت اول: 2015-07-08







