رزق متعین ہے یا نہیں؟

میرا سوال یہ ہے کہ کیا مخلوق کا رزق متعین ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔


سوال

میرا سوال یہ ہے کہ کیا مخلوق کا رزق متعین ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔

جواب

امید ہے ، آپ بخیر ہوں گے۔ آپ نے پوچھا ہے کہ کیا رزق متعین ہے یا نہیں۔

قرآن مجید میں رزق کے حوالے سے یہ بات بیان ہوئی ہے کہ زمین کے ہر جاندار کا رزق اللہ تعالی پر ہے۔ یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالی جسے چاہتے ہیں کھلا رزق دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں نپا تلا رزق دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ تم خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے نہ گھبرا‎‎ؤ اللہ وہاں سے رزق کا سامان کر دے گا جہاں سے تمھیں گمان بھی نہ ہو۔

یہ دنیا آزمایش کے اصول پر چل رہی ہے اس لیے ہماری زندگی کا ایک بڑا دائرہ محنت اور کوشش کے اصول پر قائم کیا گیا ہے۔ رزق کا حصول بھی اصلا اسی اصول پر قائم ہے۔ قرآن صرف یہ واضح کرتا ہے کہ رزق کے لیے تمھاری کوشش تمھیں اس زعم میں مبتلا نہ کرے کہ یہ تمھاری کوشش کا نتیجہ ہے۔ یہ اللہ تعالی کی ذات ہے جو تمھاری کوشش کو جتنا چاہتی ہے پھل لگاتی ہے۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ ہمیں اسی اصول پر زندگی گزارنی ہے کہ اپنے لیے اچھے حالات پیدا کرنے کے لیے محنت اور کوشش کريں لیکن اس میں اصل اعتماد اللہ پر ہونا چاہیے۔

مجیب: Talib Mohsin

اشاعت اول: 2015-07-15

مزید تحریریں جو آپ کو دلچسپ لگیں