حضرت ابو ہریرہ کے ایک قول کی توجیہ

میں نے امین احسن اصلاحی صاحب کی کتاب تزکیہ نفس کا مطالعہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول ؐ سے علم کے دو ظرف اکٹھے کئے تھے ایک کو تو میں نے کھول دیا، رہا دوسرا ظرف تو اگر اس کے علم…


سوال

میں نے امین احسن اصلاحی صاحب کی کتاب تزکیہ نفس کا مطالعہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول ؐ سے علم کے دو ظرف اکٹھے کئے تھے ایک کو تو میں نے کھول دیا، رہا دوسرا ظرف تو اگر اس کے علم کو میں آپ کے اندر پھیلا دوں تو میری گردن کاٹ دی جائے۔ اس کی جس توجیہ کو اصلاحی صاحب نے قبول کیا وہ یہ ہے کہ ابو ہریرہ نے بنو امیہ کا دور دیکھا تھا ۔ ان کی وفات٥٩ہجری کی ہے جب مسلمان بنو امیہ کے جبر و استبداد کے شکنجے میں اچھی طرح کسے جا چکے تھے۔ اور بنو امیہ تلوار کے زور سے ان تمام اہل حق کو دبا دینے کے درپے تھے جو جو ان کے استبداد اور ان کے سیاسی واجتماعی بدعتوں کے خلاف آواز اٹھاتے تھے ۔ پھر سے صفحہ ٣٨پر ابو ہریرہؓ کا قول نقل کرتے ہیں جو یہ ہے: "میں چھوکروں کی امارت سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔” میرا خیال یہ ہے کہ اس وقت تک معاو یہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حکومت تھی۔ معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ا للہ کی راہ میں جو جہاد کیا اور اللہ کے دشمنوں کو جس طرح زیر کیا اس کی نظیر نہیں ملتی۔ تو پھر کیا ایسی توجیہ کرنے سے معاویہؓ کی شخصیت متاثر نہیں ہوتی؟ معاویہؓ کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ انہوں نے بدعت کو رائج کیا ہو۔

جواب

اس طرح کے معاملات کو دیکھنے کے دو پہلو ہیں جنہیں پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ جب سیاسی اختلاف ہوجاتا ہے تو اس کی زد میں بڑی بڑی شخصیات آجایا کرتی ہیں۔ مسلمانوں کی تاریخ کے جس دور کا آپ نے تذکرہ فرمایا ہے، اس دور میں بڑی بڑی قد آور شخصیات سیاسی اختلاف کی نذر ہوگئیں۔ حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت حسن ،حضرت حسین، حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت عبد اللہ بن زبیر وغیرہ اس کی چند نمایاں ترین مثالیں ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان واقعات میں حرمین شریفین یعنی مکہ اور مدینے تک کی حرمت پامال ہوئی۔ ایسے ماحول میں حضرت ابوہریرہؓ کا محتاط ہوجانا ایک فطری عمل تھا۔ دوسری حقیقت جسے پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ خاندنِ بنو امیہ کی حکومت کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا کہ خلافت کی مسند پر بیٹھے ہوئے شخص کا تعلق بنو امیہ سے ہو بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دیگر عمال بھی بالعموم اسی خاندان سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوتے تھے۔ ایسے میں عین ممکن تھا کہ حضرت ابوہریرہ اس نوعیت کی کوئی روایت بیان کرتے اور بنو امیہ سے تعلق رکھنے والا کوئی گورنر ان کے ساتھ وہ معاملہ کرتا جس کی طرف انہوں نے خود اشارہ کیا ہے۔اس لیے یہ بات درست نہیں معلوم ہوتی کہ اصلاحی صاحب کا اشارہ حضرت امیر معاویہ کی طرف ہے۔ ہمارا تأثر یہی ہے کہ اصلاحی صاحب کا اشارہ حضرت معاویہ کی طرف ہرگز نہیں تھا بلکہ ان کے عمال کی طرف ہی تھا۔ اس کی ایک نمایاں مثال حضرت حسین کے واقعے میں دیکھی جاسکتی ہے جب کوفے کے مقامی گورنر نے اپنی صوابدید پر حضرت حسین جیسی بڑی شخصیت کو شہید کردیا۔

مجیب: Rehan Ahmed Yusufi

اشاعت اول: 2015-11-19

مزید تحریریں جو آپ کو دلچسپ لگیں