سوال:
کیا قبلے کی طرف پاؤں کرنا واقعی غلط اور بے ادبی ہے ؟
جواب:
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ کعبۃ اللہ چونکہ ہمارا مرکز ہے، اس لیے ہر مسلمان کو اس کے ساتھ ادب و احترام کا معاملہ رکھنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کو ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جو اس کی اپنی سمجھ اور ادراک میں کعبے کی بے ادبی کے زمرے میں آتا ہو۔
تاہم، یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ کون سا عمل بے ادبی ہے اور کون سا نہیں، اس کے بارے میں لوگوں کی سمجھ مختلف ہو سکتی ہے۔ ایک شخص قبلے کی طرف پاؤں پھیلانے کو بے ادبی سمجھ سکتا ہے، جبکہ دوسرا ایسا نہیں سمجھتا۔ ایسی صورت میں اصول یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اسے بے ادبی سمجھتا ہے تو اسے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
البتہ، اصل بات جو واضح ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ احترام و تعظیم کی کسی بھی علامت کو، جیسے قبلے کی طرف پاؤں نہ کرنا،شریعت کا حصہ نہیں سمجھا جا سکتا، جب تک کہ قرآن یا سنت میں اس کی واضح ترغیب نہ ملتی ہو۔ لہٰذا اگر کوئی شخص قبلے کی طرف پاؤں کر کے لیٹا ہو اور اس کی نیت میں بے ادبی نہ ہو، تو اس عمل کو حرام یا ممنوع قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مزید یہ کہ چونکہ ایک ہی معاشرے میں بھی ادب و احترام کی علامات کے بارے میں لوگوں کے تصورات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے محض کسی عمل کو دیکھ کر "بے ادبی” کا فیصلہ کرنا مناسب نہیں، خاص طور پر جب وہ عمل بغیر کسی بری نیت کے بھی سرزد ہو سکتا ہو۔ ہمیں دوسروں کی نیت کے بارے میں فیصلے صادر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
خلاصہ: قبلے کی طرف پاؤں کرنا نہ تو شرعاً حرام ہے اور نہ ہی اسے محض توہم کہا جا سکتا ہے۔ یہ ادب و احترام کا ایک ذاتی معاملہ ہے جو ہر شخص کی اپنی نیت اور شعور پر منحصر ہے۔









