سوال:
سورہ کہف میں جو حضرت خضر اور حضرت موسیٰ کا واقعہ ہے، بچے کو مارنے والا، وہ عقل پر پورا نہیں اترتا۔ پلیز اس بارے میں رہنمائی فرمائیں اور غامدی صاحب کی تفہیم سے بھی آگاہ کریں۔
جواب:
آپ کے سوال کا شکریہ۔ یہ سوال بہت اہم ہے اور فکر مند اہلِ علم کے ہاں ہمیشہ زیرِ بحث رہا ہے۔ ہم اس کا جواب چند مرحلوں میں عرض کریں گے: پہلے اس شخصیت کے تعین کا مسئلہ جنھیں عرفِ عام میں "خضر” کہا جاتا ہے، پھر استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی تفہیم، اور آخر میں وہ اصولی بحث جس سے یہ واقعہ عقل کے خلاف نہیں، بلکہ عقل کی حدود کے بیان کا ایک نہایت بلیغ اسلوب قرار پاتا ہے۔
۱۔ خضر کون تھے؟ — تعینِ شخصیت کا مسئلہ
سب سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ قرآنِ مجید نے اس شخصیت کا نہ نام لیا ہے، نہ ان کی حقیقت بیان کی ہے۔ سورۂ کہف (۱۸: ۶۵) میں انھیں صرف ان الفاظ میں متعارف کرایا گیا ہے:
فَوَجَدَا عَبۡدًا مِّنۡ عِبَادِنَاۤ اٰتَیۡنٰہُ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَ عَلَّمۡنٰہُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا
ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو وہاں پایا جسے ہم نے خاص اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنے پاس سے اُس کو ایک خاص علم عطا فرمایا تھا۔”
"ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ” کے الفاظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ لازماً کوئی انسان ہی تھے، اس لیے کہ فرشتے بھی اللہ ہی کے بندے ہیں۔ غامدی صاحب کا رجحان یہ ہے کہ یہ غالباً کوئی فرشتہ تھے جو انسانی صورت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملے۔ قرآنِ مجید میں فرشتوں کے انسانی صورت اختیار کرنے کی متعدد مثالیں موجود ہیں؛ مثلاً حضرت مریم کے پاس فرشتے کا "بشرًا سویًّا” بن کر آنا (۱۹: ۱۷)، حضرت ابراہیم اور حضرت لوط علیہما السلام کے مہمان، وغیرہ۔
اس رائے کا اصل قرینہ ان اعمال کی نوعیت ہے جو اس شخصیت سے صادر ہوئے۔ کشتی میں شگاف ڈالنا، ایک بچے کی جان لینا ؛ یہ اُس نوعیت کے کام ہیں جو اللہ تعالیٰ اس کائنات کے انتظام کے لیے اپنے فرشتوں ہی کے ذریعے سے انجام دیتا ہے۔ زندگی اور موت دینا، نعمتیں عطا کرنا اور چھین لینا؛ یہ سب اللہ کے تکوینی فیصلے ہیں اور ان کے نفاذ پر انسان مامور نہیں کیے جاتے۔ کسی انسان کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اس بنا پر کسی کی جان لے لے کہ آئندہ اس سے شر کا ظہور ہو گا۔
تاہم یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس شخصیت کے تعین پر واقعے کا فہم موقوف نہیں۔ واقعے کی نوعیت اور اس کا مقصد سمجھ لینے کے بعد یہ طے کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ وہ انسان تھے، فرشتہ تھے یا نبی۔ یہ ممکن ہے کہ وہ اللہ کے مقرر کردہ کوئی بندے ہوں جنھیں چند خاص تکوینی احکام کی تنفیذ پر مامور کیا گیا ہو؛ یہ بھی ممکن ہے کہ، جیسا کہ غامدی صاحب کا رجحان ہے، وہ انسانی صورت میں کوئی فرشتہ ہوں؛ اور یہ احتمال بھی اہلِ علم نے ظاہر کیا ہے کہ پورا واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ایک روحانی مشاہدہ (رؤیا) ہو، اس لیے کہ انبیا کے رؤیا سچے ہوتے ہیں اور قرآن و بائیبل میں بعض اوقات انھیں اسی طرح بیان کیا جاتا ہے جس طرح عالمِ بیداری کے حوادث بیان ہوتے ہیں۔ ان تینوں صورتوں میں سے کوئی صورت بھی ہو، واقعے کا سبق ایک ہی رہتا ہے۔
۲۔ بچے کے قتل کی آیت اور غامدی صاحب کی تفہیم
اب اصل آیات دیکھیے جن پر آپ کا سوال ہے:
وَ اَمَّا الۡغُلٰمُ فَکَانَ اَبَوٰہُ مُؤۡمِنَیۡنِ فَخَشِیۡنَاۤ اَنۡ یُّرۡہِقَہُمَا طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا. فَاَرَدۡنَاۤ اَنۡ یُّبۡدِلَہُمَا رَبُّہُمَا خَیۡرًا مِّنۡہُ زَکٰوۃً وَّ اَقۡرَبَ رُحۡمًا
رہا لڑکا تو اُس کے ماں باپ، دونوں ایمان والے تھے۔ سوہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ (بڑا ہو کر) اپنی سرکشی اور کفر سے اُن کو تنگ نہ کرے۔ سو ہم نے چاہا کہ اُن کا پروردگار اُنھیں اِس کی جگہ ایسی اولاد دے جو پاکیزگی میں اِس سے بہتر اور شفقت و محبت میں اِس سے بڑھ کر ہو۔” (الکہف ۱۸: ۸۰-۸۱)
غامدی صاحب نے "البیان” میں اس مقام پر جو نکتہ بیان کیا ہے، وہ اس واقعے کے فہم کی کلید ہے۔ ان کے نزدیک ان بندۂ خدا کو اللہ کی طرف سے صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ اس لڑکے کی جان لے لی جائے، کیونکہ وہ بڑا ہو کر کافر بنے گا۔ حکم بس اتنا ہی تھا۔ اس حکم کی حکمت کیا ہے، یہ انھیں نہیں بتایا گیا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے فہم سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ دراصل اس کے مومن والدین پر اللہ کا فضل ہے، تاکہ وہ لڑکا اپنی سرکشی سے انھیں اذیت نہ دے سکے۔ غامدی صاحب کے نزدیک یہی وجہ ہے کہ یہاں "خَشِیۡنَا” (ہمیں اندیشہ ہوا) کا لفظ آیا ہے۔ خشیت اور اندیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا، جو عالم الغیب ہے؛ یہ لفظ اس رائے کے حوالے سے استعمال ہوا ہے جو اس بندۂ خدا نے حکمِ الٰہی کی حکمت کے بارے میں خود قائم کی تھی۔ اور جمع کا صیغہ غالبا اس لیے ہے کہ وہ فرشتوں کے اس پورے گروہ کی نمائندگی میں بول رہے تھے جو کائنات کے انتظام کے مختلف کاموں پر مامور ہے؛ جنس کی نسبت سے جمع کا صیغہ ہماری زبانوں میں بھی عام ہے۔
اس تفہیم سے دو نہایت اہم باتیں سامنے آتی ہیں:
پہلی یہ کہ بچے کی جان لینے کا فیصلہ سراسر اللہ کا تکوینی فیصلہ تھا؛ اس بندۂ خدا نے اپنی صواب دید سے کوئی قتل نہیں کیا، بلکہ اسی طرح ایک حکم کی تعمیل کی جس طرح ملک الموت ہر روز لاکھوں جانیں قبض کرنے کے حکم کی تعمیل کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں پردہ اٹھا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دکھا دیا گیا کہ پسِ پردہ کیا ہو رہا ہے۔
دوسری یہ کہ آیت میں جو حکمت بیان ہوئی ہے — والدین کو اذیت سے بچانا اور بہتر اولاد کا بدل عطا کرنا ؛ وہ اس فیصلے کی حکمت کا ایک پہلو ہے جو اس بندۂ خدا کے فہم میں آیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ فہم غلط ہے، لیکن اللہ کے کسی فیصلے کی کامل حکمت کا احاطہ کوئی مخلوق نہیں کر سکتی۔ ممکن ہے اس فیصلے کے اور بھی کئی پہلو ہوں جو کسی کے علم میں نہیں لائے گئے۔
۳۔ کیا یہ واقعہ عقل کے خلاف ہے؟
آپ نے فرمایا کہ یہ واقعہ عقل پر پورا نہیں اترتا۔ گزارش یہ ہے کہ یہ واقعہ عقل کے خلاف نہیں، بلکہ عقل کی حدود سے ماورا ہے، اور یہی فرق اس پوری بحث کی جان ہے۔ درحقیقت قرآنِ مجید نے یہ واقعہ بیان ہی اس لیے کیا ہے کہ انسان پر اس کے علم کی محدودیت واضح ہو جائے۔ ملاحظہ کیجیے کہ خود حضرت موسیٰ علیہ السلام — جو اولوالعزم پیغمبر ہیں — نے اس واقعے پر وہی ردِعمل ظاہر کیا جو آپ کے سوال میں جھلکتا ہے: "اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَکِیَّۃًۢ بِغَیۡرِ نَفۡسٍ” — "کیا آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی، حالاں کہ اُس نے کسی کا خون نہیں کیا تھا؟” (۱۸: ۷۴)۔ گویا قرآن نے انسانی عقل کے اس اضطراب کو خود موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے بیان کر کے اس کی تصدیق کی ہے کہ ظاہر کے اعتبار سے یہ فعل واقعی نہایت گراں ہے۔ پھر پردہ اٹھا کر بتایا کہ جو کچھ تمھیں ظلم دکھائی دے رہا تھا، وہ اپنی حقیقت میں رحمت اور حکمت تھا۔
اس مقام پر چند اصولی باتیں پیشِ نظر رکھیے:
اول، یہ واقعہ شریعت کا کوئی حکم بیان نہیں کرتا اور نہ کسی انسان کے لیے اس میں کوئی عملی نظیر ہے۔ کسی انسان کو، خواہ وہ کتنا ہی صاحبِ علم ہو، یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ مستقبل کے کسی اندیشے کی بنیاد پر کسی کی جان لے۔ یہ خالصتاً اللہ کے تکوینی نظام (Cosmic Administration)کا معاملہ ہے، اور اسی لیے ہم نے عرض کیا کہ ان اعمال کی نوعیت ہی اس بات کا قرینہ ہے کہ ان کے کرنے والے کو انسانوں کے دائرۂ عمل سے الگ کسی حیثیت میں سمجھنا چاہیے۔
دوم، بچے کی موت کا فیصلہ اپنی نوعیت میں کوئی انوکھا فیصلہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے تکوینی فیصلوں کے تحت روزانہ بے شمار بچے بیماریوں، حادثوں اور دیگر اسباب سے دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔ ایک مریض شفا پاتا ہے، دوسرا وفات پا جاتا ہے؛ ایک شخص کو فراوانی ملتی ہے، دوسرا تنگ دستی کا شکار ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ عام حالات میں موت اسباب کے پردے میں آتی ہے اور یہاں وہ پردہ اٹھا دیا گیا۔ اگر اللہ کا اپنے مقرر کردہ فرشتوں کے ذریعے سے کسی کی جان لینا عقل کے خلاف ہے تو پھر یہ اعتراض ہر موت پر وارد ہو گا۔ اور اگر موت اس دنیا کے نظامِ ابتلا کا لازمی جزو ہے — جیسا کہ قرآن نے فرمایا کہ اللہ ہی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں کون عمل میں بہتر ہے (الملک ۶۷: ۲) ؛ تو پھر اس واقعے میں کوئی چیز اصولاً نئی نہیں ہے۔
سوم، انسان اس دنیا میں ایک امتحان کی حالت میں ہے۔ اس نے عقل اور ارادہ و اختیار کی امانت اپنی خوشی سے اٹھائی (الاحزاب ۳۳: ۷۲) اور اس امتحان کے نتائج و عواقب کو قبول کیا۔ اس امتحان کا لازمی تقاضا ہے کہ انسان کو ایسے حالات پیش آئیں جن کی حکمت اس پر فی الوقت منکشف نہ ہو۔ اگر ہر فیصلے کی حکمت اسی وقت کھول دی جائے تو ایمان بالغیب اور صبر و توکل کا امتحان ہی باقی نہیں رہتا۔
چہارم، جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ اللہ کو تو پہلے سے معلوم تھا کہ یہ بچہ سرکش نکلے گا، پھر اسے پیدا ہی کیوں ہونے دیا ؛ تو یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ کا علمِ سابق اسباب و علل کے پورے نظام کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ممکن ہے کہ کسی خاص صورتِ حال میں بعض اسباب ایک نتیجہ پیدا کریں اور انہی اسباب کے مختلف ہونے کی صورت میں نتیجہ مختلف ہو۔ اللہ کا علم دونوں صورتوں پر محیط ہے۔ممکن ہے اس بچے کے معاملے میں بعض مستقل اسباب و عوامل ایسے تھے جن کے باعث اس کا مستقبل وہی بننا تھا جس کی خبر دی گئی، اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غیر معمولی نقصانات کے پیشِ نظر اللہ نے مداخلت کا فیصلہ فرمایا۔ چنانچہ اللہ کے علمِ سابق اور اس دنیا کے نظامِ اسباب میں کوئی تضاد نہیں؛ تضاد اس وقت محسوس ہوتا ہے جب ہم اللہ کے علم کو انسانی علم پر قیاس کرنے لگتے ہیں۔
۴۔ واقعے کا اصل سبق
امام امین احسن اصلاحی نے "تدبرِ قرآن” میں اس واقعے کے اسباق کو جن اصولوں کی صورت میں سمیٹا ہے، ان کا خلاصہ یہ ہے:
اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے، اللہ کے اذن اور اس کی مشیت و تدبیر ہی سے ہوتا ہے؛ اللہ حکمت اور خیر میں مطلق ہے، اس لیے اس کا کوئی ارادہ حکمت اور خیر سے خالی نہیں ہوتا۔ اگر وہ اہلِ شر کو مہلت دیتا ہے تو کسی بڑی مصلحت سے، اور اگر نیک بندوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے تو ان کے لیے کسی بڑے خیر کے دروازے کھولنے کے لیے؛ اور انسان کا علم محدود ہے، اس لیے وہ اللہ کی ہر تدبیر کی حکمت نہیں جان سکتا ۔اس کے منصوبوں کے سارے راز آخرت ہی میں کھلیں گے، اور دنیا میں صحیح رویہ یہی ہے کہ انسان اللہ کے ہر فیصلے پر صبر اور شکر کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرتا رہے، اس اطمینان کے ساتھ کہ آج کی آزمایشوں میں جو خیر پوشیدہ ہے، وہ کل اپنی پوری شان سے ظاہر ہو گا۔
سیاقِ سورہ بھی اسی کی تائید کرتا ہے۔ یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطبینِ قریش کے رویے پر صبر کی تلقین کے ضمن میں سنایا گیا ہے: جس طرح موسیٰ علیہ السلام کو پیش آنے والے واقعات کی حکمت بعد میں کھلی، اسی طرح اللہ کی اسکیم میں حق و باطل کی اس کشمکش کے نتائج بھی اپنے وقت پر ظاہر ہوں گے۔
آخری بات یہ کہ اس کائنات کے معاملات میں بے شمار در بے شمار حکمتیں ایک دوسرے سے وابستہ ہیں، اور اللہ کے سوا کوئی ہستی نہیں جو ہر پہلو کا احاطہ کر سکے۔ ہمارے فیصلے اور ہماری آرا ہمارے مشاہدے اور تجربے تک محدود ہوتی ہیں۔ ہمارے اطمینان کا اصل مقام یہ یقین ہے کہ ہمارا پروردگار رحیم و کریم اور اپنی مخلوق سے محبت کرنے والا خالق ہے، جو اپنی کسی مخلوق کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا۔ اُس بچے سے اُس کی ماں بھی اتنی محبت نہیں کر سکتی جتنی اُس کا خالق کرتا ہے۔ اور یہ بھی اسی کا کرم ہے کہ اس نے ہمیں وہ عقل عطا کی جس سے ہم اپنے حال پر سوال اٹھاتے اور اس کی حکمتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امید ہے کہ اس سے آپ کے سوال کی وضاحت ہو گئی ہو گی۔
واللہ اعلم بالصواب۔
مشفق سلطان
المورد









